نوبیل انعام یافتہ کو 30 برس تک نظر انداز کیوں کیا گیا؟


ڈاکٹر عبدالسلام کو 1980 میں نظریاتی طبیعیات میں خدمات پر نوبیل انعام ملنے کے فوری بعد اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں ایک تقریب کے لیے مدعو کیا گیا۔
اس وقت بعض لوگوں کو توقع تھی کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو مدعو کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے لیکن ایسا ہوا اور کا جواز فرقہ واریت پر مبنی تھا کیونکہ 1974 کے قانون کے تحت احمدی برادری کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اور ڈاکٹر سلام کا تعلق بھی اسی برادری سے تھا۔
پاکستان کے معروف ماہرِ فزکس اور سکیورٹی تجزیہ کار پرویز ہود بھائی کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں اس تقریب کا انعقاد ڈاکٹر عبدالسلام کے اعزاز میں کیا گیا تھا۔ شعبہ فزکس کی بنیاد ڈاکٹر سلام کے ہی ایک سابق طالب علم ڈاکٹر ریاض الدین نے ڈالی تھی۔
ڈاکٹر عبدالسلام تقریب میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے لیکن وہ جماعت اسلامی کے طلبہ کے طاقتور سیاسی اور مذہبی دھڑے کے طالب علموں کے احتجاج کے باعث یونیورسٹی کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے۔
پرویز ہود بھائی کے مطابق انھیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس وقت صورت حال بہت سنگین ہو گئی اور احتجاج کرنے والے طالب علموں نے دھمکی دی کہ اگر ڈاکٹر سلام یونیورسٹی میں داخل ہوئے تو ان کی ٹانگ توڑ دی جائے گی اور اس کی وجہ سے ہمیں اس تقریب کو منسوخ کرنا پڑا۔
اس واقعے کے تقریباً 37 برسوں بعد گذشتہ پیر کو وزیراعظم نواز شریف نے یونیورسٹی کے اسی شعبہِ طبیعیات کو ڈاکٹر سلام سے منسوب کرنے کے منصوبے کی منظوری دے کر بہت سوں کو حیران کر دیا۔
وزیر اعظم نے پاکستانی طلبہ کے لیے سالانہ پانچ وظیفوں کا اعلان بھی کیا ہے جو طبیعیات کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے لیے بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے لیے جا سکیں گے۔ اِس پروگرام کو بھی پروفیسر عبدالسلام فیلوشپس کا نام دیا جائے گا۔
اس فیصلے کا بہت سے لوگوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ پاکستان کے معروف انگریزی اخبار ڈان نے بدھ کو اپنے اداریے میں امید ظاہر کی کہ ایک تاریخی غلطی بالآخر ٹھیک ہونے جا رہی ہے۔
اخبار کے مطابق اس ملک کو عالمی شہرت یافتہ سائنسدان کو عزت بخشنے میں 40 برس کے قریب لگے اور ان ترجیحات کی افسوس ناک عکاسی کرتا ہے جو یہاں اثر رکھتی ہیں۔۔۔ ڈاکٹر سلام احمدی تھے، ایک اقلیت، جسے پاکستان میں ایذائیں دی جاتی ہیں۔۔ انھیں اپنی کامیابیوں کی بجائے ان کی عقیدے کی بنیاد پر دیکھا گیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام 1926 میں وسطیٰ پنجاب کے شہر جھنگ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ریاضی کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں وظیفہ پا کر کیمبرج یونیورسٹی چلے گئے جہاں سے انھوں نے 1951 میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
سنہ 1960 سے 1974 کے دوران انھوں نے سائنسی امور میں صدرِ پاکستان کے مشیر کے طور پر کام کیا۔ ملک میں جوہری اور خلائی پروگرام کی بنیاد رکھنے کا کریڈٹ انھی کو دیا جاتا ہے۔
سنہ 1974 میں انھوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے پر احتجاجاً ملک چھوڑ دیا لیکن اس عرصے میں انھوں نے پاکستانی سائنس دانوں کے حلقے سے تعلق نہیں توڑا۔
اس عرصے کے دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ میں موجود مضبوط حلقوں کی پشت پناہی کی وجہ سے مذہبی انتہاپسندی پروان چڑھی اور سماجی سطح پر احمدیوں کے خلاف پیدا ہونے والی عداوت اب تک ختم نہیں ہو سکی۔
لیکن پاکستان تدریسی کتب میں ان کا تذکرہ نہیں ملتا۔
اب تک عوامی سطح پر انھیں ہیرو کا درجہ دینے کا مطلب ‘عقیدے کے محافظوں’ کو ردِعمل پر ابھارنا ہوتا تھا۔
تو پھر پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ان کی وفات کے 20 سال بعد انھیں یہ تکریم دینے کا جوا کیوں کھیلا؟
باوثوق ذرائع کے مطابق بظاہر وزیراعظم کو اس کافوری خیال 29 نومبر کو ان کی 20ویں برسی کے موقعے پر اس آیا جب وہ ٹی وی پر ان کی یاد میں پیش کیا جانے والا ایک پروگرام دیکھ رہے تھے۔
پروگرام کے کچھ دیر بعد انھوں نے اس پروگرام میں موجود ایک شخصیت کو ٹیلی فون کیا اور نیشنل سینٹر فار فزکس کو ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے کی سفارش کی۔
پرویز ہود بھائی کہتے ہیں کہ بظاہر وزیراعظم نے ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اسی لمحے ازالہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
‘یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ایک ‘نارمل’ ملک بننا چاہتا ہے اور نواز شریف اس ملک کے انتہاپسندانہ نظریات کی ترویج کرنے کے امیج کو اصلاح پسندی سے دشمنی کو کنٹرول کر کے اپنے ہیروز، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، انھیں اپنانا چاہتے ہیں۔’
لیکن اگر یہ تبدیلی ہے تو یہ محض ایک ابتدا ہے اور کچھ عناصر نے اس کی کامیابی روکنے کے لیے پہلے ہی تیاری کر لی ہے اور اسے ایک کمزور اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
جس دن وزیراعظم نے ڈاکٹر عبدالسلام کو یہ اعزاز دیا پولیس کی ایک ٹیم نے ربوہ میں احمدیہ فرقے کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔ انھوں نے چار افراد کو حراست میں لیا اور پرنٹنگ پریس کو سیل کر دیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ‘نفرت انگیز’ مواد چھاپ رہا تھا۔
احمدیہ مخالف ایک گروہ نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ پولیس کا چھاپہ ان کی جانب سے کی جانے والی درخواست کے بعد مارا گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ معمول کی جانب سفر بغیر رکاوٹوں کے نہیں ہو گا۔

Comments

comments

نوبیل انعام یافتہ کو 30 برس تک نظر انداز کیوں کیا گیا؟

log in

Become a part of our community!

Don't have an account?
sing up

reset password

Back to
log in

sing up

Back to
log in
%d bloggers like this: